06-Sep-2022-استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے
*استاد یہ قوموں کے ہیں معمار ہمارے*
انسان کی زندگی کا نظام دو عناصر یعنی جسم اور روح کے ملاپ سے تشکیل پاتا ہے ۔ جسدِ خاکی کی نگہداشت و بود و باش حقیقی والدین کی ذمے داری ہے جب کہ روحِ انسانی کے ثمردار پودے کو خونِ جگر دے کر سینچنے والی ہستی کا نام استاد ہے۔ حقیقی والد بچے کا جسمانی باپ جب کہ استاد بچے کا روحانی باپ ہے۔
*استاد کا مقام اسلامی تعلیمات کی روشنی میں*
اسلام نے استادکو روحانی والدقرار دے کر ایک قابل قدرہستی، محترم ومعظم شخصیت کی حیثیت عطا کی
استاد کی عظمت اور فضیلت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ربِ ذوالجلال خود سب سے پہلے اور بڑے معلم ہیں۔ ارشادِ ربانی ہے: *اقرء وربك الأكرم الذي علم بالقلم علم الإنسان مالم يعلم*(ترجمہ) ’’ پڑھ تیرا رب بہت بزرگی والا ہے جس نے قلم کے ذریعے علم سکھایا اور انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ نہیں جانتا تھا۔‘‘
اور ایک جگہ حضرت آدم علیہ السلام کے قصے میں بیان فرمایا
*وعلم أدم الأسماء كلها* (اور آدم علیہ السلام کو اللہ نے سب چیزوں کے اسماء کا علم عطاء کیا،
خود پیغمبر اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ کو بحیثیت معلم کے انسانیت کے سامنے پیش کیا،
چنانچہ ایک روایت میں آپ نے فرمایا *إنما بعثت معلما* یعنی مجھے معلم (استاد) بنا کر بھیجا گیا ہے
آپ ایسے معلم تھے جن کی صرف 23 سال کی تدریسی کاوشوں نے جزیرہ عرب کی کایا پلٹ کر رکھ دی۔ آپؐ کی تعلیمات نے وحشی صحرا نشین شتربانوں کو مہذب شہری بنا دیا۔
*عزیز دوستوں*..!
استاد کو ہر زمانے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا رہا ہے.استاد کی اہمیت اور ان کا مقام ومرتبہ کی ایک خاص وجہ یہ بھی ہے کہ وہ ہماری شخصیت سازی اور کردار سازی میں معاون مددگار ثابت ہوتا ہے.استاد ہر ایک طالب علم کو ویسے ہی سنوارتا ہے جیسے ایک سونار دھات کے ٹکڑے کو سنوارتا ہے،
نیز مذہب اسلام میں استاد کے ادب و احترام کے مزید دو نکتہ نظر پیش کیے گئے ہیں
1۔ ایک تو وہ منبع علم ہونے کے ناطے ہمارے روحانی باپ ہوا کرتے ہیں.ہماری اخلاقی اور روحانی اصلاح وفلاح کے لئے اپنی زندگی صرف کرتے ہیں
2۔ دوسرا یہ کہ وہ عموما طلبہ سے بڑے ہوتے ہیں اور مذہب اسلام اپنے سے بڑوں کے احترام کا حکم بھی دیتا ہے.ارشاد نبوی ہے" *من لم یرحم صغیرنا ومن لم يوقر كبيرنا فليس منا*
(جو ہمارے چھوٹوں پر رحم اور بڑوں کا احترام نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں)
*استاد کا مقام و مرتبہ اکابرین امت کی نظر میں*
حضرت علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ :
"جس نے مجھے ایک حرف بھی پڑھا دیا میں اس کا غلام ہوں، وہ مجھے فروخت کر دے یا غلام بنادے"
ابن وہب کہتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ کے ادب سے مجھے جو کچھ ملا علم سے اتنا نہیں ملا،
امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے فرمایا :انسان پر اپنے استاد کی مدارات واجب ہے، اس کی سختی کو برداشت کرے، اور وہ کوئی اچھی بات بتائے یا کسی بات پر تنبیہ کرے تو اس کی شکر گزاری ضروری ہے،
امام ربیع فرماتے ہیں کہ اپنے استاد امام شافعی رحمہ اللہ کے سامنے مجھے کبھی پانی پینے کی بھی جرأت نہیں ہوئی،
امام اعظم ابو حنیفہ اپنے اُستاد کا اتنا ادب کرتے تھے کہ کبھی اُستاد کے گھر کی طرف پیر کر کے نہیں سوئے۔
امام غزالیؒ نے استاد کو اس طرح خراج تحسین پیش کیا ہے: ’’ حقیقی باپ نفس کو آسمان سے زمین پر لاتا ہے مگر روحانی باپ تحت الثرٰی سے سدرۃُالمنتہٰی پر لے جاتا ہے۔‘‘
آج بدبختی سے ہمارے معاشرے میں استاد کی عزت سے کسی کرپٹ اور چور سیاسی پارٹی کے رہنما کا احترام زیادہ ہے۔
یہ آفاقی سچائی ہےکہ جس سماج نےاستادکی اہمیت کوجانااور شعوری طورپراستاد کواس کاحق دیا اس نےکامیابی کی منزلیں عبورکیں اور جس معاشرےنے استادکی تحقیروتذلیل کی ذلت ورسوائی اس کامقدربن گئی۔
اللہ ہم سب کو اپنی اصلاح کی توفیق نصیب کرے۔۔۔آمین
طالب دعا ء
ڈاکٹر عبد العلیم خان
adulnoorkhan@gmail.com
Asha Manhas
08-Sep-2022 12:28 PM
ماشاءاللہ ماشاءاللہ بہت زبردست لکھا ہے🌹
Reply
Sona shayari
06-Sep-2022 09:52 PM
بہت خوبصورت لکھا ہے
Reply
Arshi khan
06-Sep-2022 09:32 PM
بہت عمده
Reply